نئی دہلی،09؍اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) سپریم کورٹ نے مرکز اور دہلی حکومت اور دویگرسے کہا کہ دارالحکومت میں غیر مجاز تعمیر اور غیر قانونی ڈھانچے کی سیلنگ کو سیاست کا مسئلہ نہ بنائیں۔جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس دیپک گپتا کی دو رکنی بنچ نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب مرکز کی جانب سے اضافی سالسیٹر جنرل اے ان ایس ناڈکری نے اسے مطلع کیا کہ متعلقہ ایجنسیوں کی میٹنگ میں غیر مجاز تعمیرات سے متعلق سارے مسائل کی نگرنی کے لئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ بنچ نے کہاکہ کچھ اور نقاط ہیں اور آپ ان پر بھی غور کیجئے۔یہ سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔عدالت عظمی نے حکام سے کہا کہ اس معاملے میں آگے بڑھتے وقت، بالخصوص اسکولوں میں آگ سے تحفظ کے پہلو اور زمینی سطح میں زبردست کمی کو بھی ذہن میں رکھا جائے۔بنچ نے حکام کو یہ بھی واضح کیا کہ دہلی کے شہریوں کی طبی فوائد سے کہیں زیادہ اہم ہے اور انہیں اس مسئلے کو صحیح طریقے پر دیکھنا ہوگا۔بنچ نے اس کے ساتھ ہی اس معاملے کی سماعت 18 اپریل کیلئے ملتوی کر دی۔اعلیٰ عدالت نے غیر قانونی تعمیر روکنے میں ناکام رہنے پر چار اپریل کو مرکز اور دہلی حکومت اور مقامی اداروں کو پھٹکار لگائی تھی۔بنچ نے کہا تھا کہ حکام کی غیرفعالیت کی وجہ سے شہریوں، خاص طور بچوں کے پھیپھڑے خراب ہورہے ہیں۔دہلی کی عوام آلودگی، پارکنگ اور سبز علاقے کی کمی کے بحران سے دوچار ہے۔کورٹ نے اس سے پہلے غیر قانونی تعمیر والے ڈھانچے کی شناخت اور انہیں سیل کرنے کے لئے 24 مارچ 2006 کو قائم مانیٹرنگ کمیٹی کو بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔